لاہور (عامراقبال بٹ سے ) تفصیلات کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے پیڈا ایکٹ 2006 کے سیکشن 16 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے دربار حضرت داتا گنج بخشؒ لاہور کے سابق ایڈمنسٹریٹر جمیل احمد اور سابق مینیجر طاہر مقصود کی محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب کی طرف سے عائد کردہ سزاؤں کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں ۔ ترجمان محکمہ اوقاف کا کہنا ہے کہ چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف پنجاب/مجاز اتھارٹی نے 2 جون 2026 کو جمیل احمد کو پانچ سال کے لیے نچلے عہدے اور پے سکیل پر تنزلی، پانچ سال کی سابقہ سروس ضبط کرنے اور 92 لاکھ 65 ہزار 800 روپے کی وصولی، جبکہ طاہر مقصود کو ملازمت سے برطرفی اور ایک کروڑ 13 لاکھ 24 ہزار 867 روپے کی وصولی کی سزائیں عائد کی تھیں۔ ترجمان کے مطابق اپیلوں پر سماعت کے لیے ممبر-IV (انکوائریز)، S&GAD امتیاز احمد کو ہیرنگ آفیسر مقرر کیا گیا، جنہوں نے دونوں اپیل کنندگان کو ذاتی سماعت کا موقع فراہم کیا اور ان کا مؤقف سننے کے بعد کیس کے مکمل ریکارڈ، انکوائری رپورٹ اور دستیاب شواہد کا تفصیلی جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کی۔ اپیل کنندگان نے کیش باکسز کی آمدن میں گزشتہ سال کے مقابلے میں کمی، کیش باکسز کمیٹی کی موجودگی میں کھولے جانے اور دیگر متعلقہ اہلکاروں کو کارروائی میں شامل نہ کیے جانے سمیت مختلف نکات پیش کیے، تاہم ہیرنگ آفیسر/ممبر انکوائریز کے مطابق وہ اپنے مؤقف کے حق میں ایسا مؤثر مواد پیش نہ کر سکے جو ریکارڈ پر موجود شواہد کو رد کر سکتا۔ ترجمان کے مطابق محکمہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق انتظامی دور میں مزار کے کیش باکسز سے حاصل ہونے والی آمدن میں غیر معمولی اور مسلسل کمی دیکھی گئی، جبکہ مرکزی/ہیڈکوارٹر نگرانی شروع ہونے کے بعد آمدن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں کیش باکسز سے مبینہ رقوم کے اخراج، سی سی ٹی وی فوٹیج کے مبینہ غلط استعمال یا لیکیج اور دیگر متعلقہ امور کا بھی ذکر کیا گیا۔ معاملے کی انکوائری کے لیے ڈائریکٹر جنرل مذہبی امور اوقاف پنجاب اور ڈائریکٹر فنانس اوقاف پنجاب پر مشتمل دو رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے چار میں سے تین الزامات مکمل طور پر جبکہ ایک الزام جزوی طور پر ثابت قرار دیتے ہوئے کارروائی کی سفارش کی۔ ترجمان کے مطابق اپیل کنندگان کو ذاتی سماعت کا موقع بھی فراہم کیا گیا، تاہم وہ اپنے خلاف دستیاب شواہد کو مؤثر طور پر رد نہ کر سکے۔ کیس ریکارڈ، انکوائری رپورٹ، اپیلوں اور ہیرنگ آفیسر کی رپورٹ کے جائزے کے بعد یہ بھی مشاہدہ کیا گیا کہ کیش باکسز کی آمدن میں مبینہ مسلسل خردبرد اور غلط استعمال کے نتیجے میں محکمہ کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے قرار دیا کہ اپیل کنندگان اپنے خلاف موجود شواہد کو رد کرنے کے لیے مؤثر مواد پیش نہیں کر سکے اور اپنی اپیلوں میں اپنا مؤقف ثابت کرنے میں ناکام رہے۔ چنانچہ تمام قانونی و محکمانہ کارروائی مکمل ہونے کے بعد چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان نے جمیل احمد اور طاہر مقصود کی اپیلیں بے میرٹ اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیں۔


