اسلام آباد (سوشل میڈیا رپورٹ): پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال سے ایک مبینہ جعلی ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مذکورہ شخص ہسپتال میں خود کو ڈاکٹر ظاہر کر کے مریضوں کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ ادویات اور انجیکشن تجویز کر رہا تھا، جبکہ اس کے پاس سے مبینہ طور پر جعلی اسٹیمپ بھی برآمد ہوئی ہے۔اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد پمز ہسپتال کی انتظامیہ، سیکیورٹی اور نگرانی کے نظام پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اگر مذکورہ شخص ہسپتال کا باقاعدہ ملازم نہیں تھا اور اس کے باوجود وہ ہسپتال کی حد میں داخل ہو کر علاج معالجہ کر رہا تھا، تو یہ سیکیورٹی کی شدید غفلت اور انتظامی بے حسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔میڈیا اور قانونی ماہرین کے مطابق واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے درج ذیل نکات پر انتظامیہ سے جواب طلبی ضروری ہے:
سیکیورٹی کا فقدان: ایک غیر متعلقہ شخص طویل عرصے تک ہسپتال کے حساس شعبوں میں بغیر کسی روک ٹوک के کیسے کام کرتا رہا؟
- نگرانی کا نظام: شعبہ سیکیورٹی اور وارڈ انچارج کی جانب سے اس سے قبل اس شخص کی بائیو میٹرک یا شناختی تصدیق کیوں نہیں کی گئی؟
- مریضوں کی جان کو خطرہ: جعلی ادویات یا غلط علاج سے جن مریضوں کو نقصان پہنچا، اس کا ذمہ دار کون ہے؟

