لاہور (عامر اقبال بٹ ) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے کہا ہے کہ انتظامی اصلاحات کا مقصد حکمرانی کے نظام کو زیادہ مؤثر، جواب دہ اور عوام کے قریب بنانا ہونا چاہیے۔ اس کے لیے فیصلہ سازی، انتظامی ذمہ داریوں اور مالی وسائل کے درمیان مناسب توازن ضروری ہے۔وہ یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں پاکستان پولیٹیکل سائنس کنسورشیم کے زیر اہتمام ’’صوبوں کو اختیارات کی منتقلی اور پاکستان میں حسنِ حکمرانی‘‘ کے موضوع پر منعقدہ قومی پالیسی مکالمے سے خطاب کر رہے تھے۔ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ آئینی نظام میں وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے کردار اور اختیارات کا تعین بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اختیارات کی منتقلی اس وقت زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے جب ذمہ داری کے ساتھ مناسب فیصلہ سازی اور وسائل بھی دستیاب ہوں اور متعلقہ سطح پر جواب دہی کا مؤثر نظام موجود ہو۔سپیکر ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے حوالے سے ماضی میں مختلف قانونی اور انتظامی تجربات کیے گئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مقامی اداروں کے کردار، ذمہ داریوں اور اختیارات کو واضح کیا جائے تاکہ شہریوں سے متعلق معاملات زیادہ مؤثر انداز میں نمٹائے جاسکیں۔سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خاں نے سول سروس اصلاحات کو بھی انتظامی بہتری کا اہم حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری انتظامی ڈھانچے کو موجودہ جمہوری اور انتظامی تقاضوں کے مطابق بہتر بنانا ضروری ہے۔ منتخب نمائندوں اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات اور ذمہ داریوں کی واضح تقسیم حکمرانی کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے۔ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی۔ اب اختیارات کی منتقلی، مالی وسائل اور مقامی حکومتوں کے کردار سے متعلق معاملات پر مسلسل پالیسی اور آئینی مکالمے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطہ اور تعاون ضروری ہے، جبکہ مختلف سطحوں پر اختیارات اور وسائل کے استعمال کے ساتھ مؤثر نگرانی اور جواب دہی بھی ہونی چاہیے۔سپیکر نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کے ساتھ انتخابی عمل کی شفافیت اور عوامی اعتماد بھی جمہوری حکمرانی کے اہم عناصر ہیں۔ اصلاحات کا مقصد ایسا نظام تشکیل دینا ہونا چاہیے جس میں عوامی نمائندگی، ادارہ جاتی استعداد اور جواب دہی ایک دوسرے کو تقویت دیں۔ملک محمد احمد خاں نے کہا کہ انتظامی اصلاحات کا اصل معیار محض اختیارات کی منتقلی نہیں بلکہ عوامی خدمات میں بہتری، فیصلوں میں مؤثریت، شفافیت اور شہریوں کی مؤثر شرکت ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو مؤثر اختیار اور واضح ذمہ داری دی جائے تو عوامی ضروریات کو حکمرانی کے عمل سے بہتر طور پر جوڑا جاسکتا ہے۔



