
محسن نقوی کا ناقدین کو دوٹوک جواب شاہ چارلس سے ملاقات میں کھلاڑیوں کی موجودگی پر سوالات
انڈیا بھی آئرلینڈ سے ہارا محسن نقوی کا ناقدین کو جواب // شاہ چارلس سے ملاقات نے نئے سوالات اٹھا دیے
پاکستان کرکٹ ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر تنقید کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے برطانیہ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ہمراہ بادشاہِ برطانیہ شاہ چارلس سے ملاقات کی۔کلیرنس ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران قومی ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے ٹیم کے کھلاڑیوں کے دستخط والا بیٹ شاہ چارلس کو بطور تحفہ پیش کیا۔ ملاقات کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر بھی سامنے آئیں، جن میں قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ محسن نقوی بھی موجود تھے۔دوسری جانب اس ملاقات کے بعد محسن نقوی نے پاکستانی کرکٹ ٹیم اور کرکٹ بورڈ کی کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کو بھی جواب دیا اور کہا کہ صرف پاکستان کی شکست کو بنیاد بنا کر تنقید کرنا درست نہیں، کیونکہ کھیل میں شکست اور کامیابی دونوں کا امکان موجود رہتا ہے۔ ان کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ بھارت بھی آئرلینڈ کے خلاف شکست سے دوچار ہو چکا ہے، لہٰذا کسی ایک میچ یا نتیجے کو ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔تاہم شاہ چارلس سے ملاقات کی جاری ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز نے ایک اور سوال بھی اٹھا دیا ہے۔ ان میں وہ چار کھلاڑی، جنہیں حالیہ فیصلوں کے تحت سکواڈ سے ریلیز کیا گیا تھا، یعنی عامر جمال، علی عثمان، خرم شہزاد اور اویس ظفر، بھی دکھائی دیتے ہیں، جبکہ سلمان علی آغا ملاقات کے موقع پر نظر نہیں آئے سلمان علی آغا کی کلیرنس ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں عدم موجودگی کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بھی اس حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔یوں شاہ چارلس سے ملاقات ایک جانب پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے اعزاز کا موقع بنی تو دوسری جانب کھلاڑیوں کی موجودگی اور بعض اہم ناموں کی عدم موجودگی نے کرکٹ حلقوں میں نئے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

