قبصہ میں لئے گے لوڈر رکشے

لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن (MCL) کا شعبہ ریگولیشن بدعنوانی کا گڑھ بن گیا انکروچمنٹ مافیا جعلی تلفی اور لاکھوں کے بھتہ راج کا انکشاف
لاہور(عامراقبال بٹ سے)
لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن (MCL) کا شعبہ ریگولیشن مسلسل بدعنوانی، اقربا پروری اور سنگین بے ضابطگیوں کی لپیٹ میں ہے۔ موثق ذرائع کے مطابق بااثر عناصر پر مشتمل ایک منظم مافیا نے پورے شعبے کو انتظامی طور پر یرغمال بنا رکھا ہے، جس کے باعث نہ صرف اصلاحات کے تمام دعوے ہوائی ثابت ہوئے بلکہ سابقہ دور کی تمام فاسد روایات مزید پختہ ہو چکی ہیں۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کے دوران غریب شہریوں اور دکانداروں سے ضبط کیا جانے والا قیمتی سامان کبھی سرکاری مال خانے (سٹور) کا منہ نہیں دیکھ پاتا۔ ریگولیشن عملہ اس سامان کو سٹور کے باہر ہی غیر قانونی طور پر من مانے داموں فروخت کر دیتا ہے یا پھر دکانداروں سے بھاری رشوت وصول کر کے سامان موقع پر ہی واپس کر کے رقم نجی جیبوں میں منتقل کر لی جاتی ہے۔
سرکاری ریکارڈ میں شفافیت کا جنازہ نکالتے ہوئے کاغذی کارروائیوں میں یہ دکھایا جاتا ہے کہ ضبط شدہ سامان کو مشینری کے ذریعے تلف (Crushing) کر دیا گیا ہے۔ جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر اٹھایا جانے والا کروڑوں روپے کا سامان سرکاری انوینٹری سے سرے سے غائب ہوتا ہے اور یہ تمام عمل ایک طے شدہ منصوبے کے تحت سرانجام دیا جا رہا ہے۔
سابقہ ادوار کی طرح آج بھی سٹورز اور تجاوزات کی مد میں لاکھوں روپے کی ماہانہ غیر قانونی وصولیاں (بھتہ) بلا خوف و خطر جاری ہیں چند مخصوص اور بااثر اہلکاروں پر مشتمل یہ گٹھ جوڑ کسی بھی قانونی کارروائی سے بے خوف ہو کر سرکاری وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے۔ دوسری جانب دوکانداروں اور ریڑھی بانوں کو ڈرا کر ان سے رشوت وصول کی جاتی ہے کہ یہاں ہی ڈیل کرلو سامان اٹھا لیا تو سٹور سے ملنا نہیں جس پر کچھ معملات باہر ہی طے کرلئے جاتے ہیں اور جو نہ مانے اس کا سامان اور دوکانیں سیل کردی جاتی ہیں قانونی ماہرین کے مطابق یہ عمل محض انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ سرکاری امانت میں خیانت (Criminal Breach of Trust) کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ افعال پاکستان پینل کوڈ (PPC) کی دفعہ 409 (سرکاری ملازم کی جانب سے امانت میں خیانت) اور دفعہ 420 (دھوکہ دہی) کے علاوہ قومی احتساب آرڈیننس (NAB Ordinance) کے تحت سنگین اور نا قابلِ ضمانت جرائم ہیں۔
صورتحال کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے احتساب کے اعلیٰ اداروں سے درج ذیل فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جاتا ہے قومی احتساب بیورو (NAB) اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) شعبہ ریگولیشن کے زیر استعمال سٹور کا اچانک دورہ کر کے تمام تر ریکارڈ فوراً اپنی تحویل میں لیں۔ضبط شدہ سامان میں شفافیت لانے کے لیے QR کوڈنگ اور آن لائن انوینٹری سسٹم بلا تاخیر نافذ کیا جائے تاکہ ہر سامان کی آمد لوکیشن اور موجودہ صورتحال براہ راست مانیٹر ہو سکے۔
اس مافیا میں ملوث تمام سرکاری اہلکاروں اور ان کے سہولت کاروں کو فوری معطل کر کے ان کے خلاف نامزد ایف آئی آر (FIR) درج کی جائے۔ ملوث اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ/ بے نامی داروں کے تمام اثاثوں کی فوری چھان بین کی جائے اور لوٹی گئی سرکاری و عوامی رقم ان کی ذاتی جائیدادوں کو ضبط (Recover) کر کے قومی خزانے میں جمع کرائی جائے۔

فائل فوٹو سٹور میں موجود سامان