لاہور(میٹروپولیٹن نیوز) تفصیلات کے مطابق 95 سالہ ضعیف خاتون کو اپنے پاس رکھنے کے معاملے پر دو بیٹے عدالت پہنچ گئے۔ انتہائی معمر خاتون نہ بول سکتی ہیں، نہ دیکھ سکتی ہیں اور نہ ہی سن سکتی ہیں، تاہم دونوں بیٹے انہیں اپنے پاس رکھنے پر بضد ہیں۔ایک بیٹے نے مؤقف اختیار کیا کہ والدہ گزشتہ پانچ برس سے اس کے پاس رہ رہی ہیں اور وہ آئندہ بھی ان کی دیکھ بھال کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسرے بیٹے کا کہنا تھا کہ والدہ اس کے پاس رہنا چاہتی ہیں۔معاملہ عدالت تک پہنچا تو 95 سالہ خاتون کو کرسی پر بٹھا کر کمرۂ عدالت میں پیش کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق بوڑھی والدہ کے نام تین کنال زمین بھی موجود ہے، جس کے باعث معاملے نے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ دونوں بیٹوں کی والدہ کو اپنے پاس رکھنے کی خواہش صرف ماں کی خدمت اور محبت ہے یا جائیداد کا معاملہ بھی اس میں شامل ہے؟ عدالت میں پیشی کے دوران معمر خاتون کی حالت نے ہر شخص کو افسردہ کر دیا، تاہم اصل حقیقت کیا ہے، اس کا فیصلہ عدالت ہی کرے گی۔



