لاہور(میٹرو پولیٹن نیوز) تفصیلات کے مطابق شالیمار زون کرکٹ ایسوسی ایشن نے نوجوان کرکٹرز کو زیادہ سے زیادہ مسابقتی مواقع فراہم کرنے اور کلب کرکٹ کے فروغ کے لیے ایک اور اہم کھیل دوست اقدام اٹھاتے ہوئے زون کی سطح پر دو روزہ انڈر 19 کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹورنامنٹ کے انعقاد کی منظوری ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں دی گئی۔اجلاس کی صدارت شالیمار زون کے صدر محمد ارشد نے کی، جبکہ سیکرٹری محمد خورشید اور خازن آصف عزیز کے علاوہ نائب صدر ملک عطا الرحمن، جوائنٹ سیکرٹری اعجاز شاہ، ایگزیکٹو اراکین وقار المنیر اور غلام حسین نوری بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ایگزیکٹو کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ زون میں انڈر 19 کی چھ ٹیمیں تشکیل دے کر باہمی مقابلوں کا انعقاد کیا جائے گا، تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطح کی مسابقتی کرکٹ کا تجربہ حاصل ہو۔ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے انڈر 19 کھلاڑیوں کی کٹ آف ڈیٹ یکم ستمبر 2008 مقرر کی گئی ہے۔شالیمار زون کے مطابق ٹورنامنٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت منعقد کیا جائے گا، جبکہ ایونٹ کے دوران کھلاڑیوں کی کارکردگی، رنز، وکٹوں، بیٹنگ اور باؤلنگ ایوریجز سمیت تمام اہم اعداد و شمار کا باقاعدہ اور شفاف ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ اس ڈیٹا کو مستقبل میں باصلاحیت کھلاڑیوں کی نشاندہی اور ان کی ترقی کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ایگزیکٹو کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ ٹورنامنٹ میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے خصوصی فٹنس کیمپ منعقد کیا جائے گا، جس کا مقصد نوجوان کرکٹرز کی فٹنس کو مزید بہتر بنانا، ان کی جسمانی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور انہیں مستقبل کی اعلیٰ سطح کی کرکٹ کے لیے تیار کرنا ہے۔اس موقع پر صدر شالیمار زون محمد ارشد نے کہا کہ شالیمار زون نوجوان کرکٹرز کو کھیل کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے اور کلب کرکٹ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قائد اور صدر لاہور ریجن کرکٹ ایسوسی ایشن خواجہ ندیم احمد کے منشور پر عمل کرتے ہوئے کلب کرکٹ کی خدمت اور نوجوان کھلاڑیوں کی ترقی کے لیے پوری ذمہ داری اور جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔محمد ارشد نے کہا کہ انڈر 19 ٹورنامنٹ کا مقصد صرف مقابلوں کا انعقاد نہیں بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو ایک منظم، شفاف اور میرٹ پر مبنی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں ان کی کارکردگی کا باقاعدہ ریکارڈ محفوظ ہو اور مستقبل میں باصلاحیت کھلاڑیوں کو مزید مواقع فراہم کیے جا سکیں۔

