



اسلام آباد(میٹروپولیٹن نیوز) تفصیلات کے مطابق کنسلٹنسی اور کوریئر کمپنیوں کے 16 افراد گرفتار، محکمے کے چھ عہدیداروں کی تلاش جاری پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے وفاقی دار الحکومت میں متعدد کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپا مار کر مبینہ طور پر جعلی اپوسٹل سٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کے نیٹ ورک میں شامل 16 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ اس نیٹ ورک سے مبینہ طور پر منسلک دفترِ خارجہ کے چھ عہدیداروں کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ایف آئی اے کی جانب سے سنیچر کے روز ایک بیان جاری کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قابلِ اعتماد ذرائع کی بنیاد پر ادارے نے اسلام آباد کے علاقے آبپارہ میں واقع ایف اینڈ ایف پلازہ کے بیسمنٹ میں واقع متعدد کنسلٹنسی اور کوریئر دفاتر پر چھاپہ مارا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران جعلی اپوسٹل سٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری، ترسیل اور استعمال کا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے اور 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔مقدمے میں دھوکہ دہی، جعل سازی، جعلی دستاویز کو اصلی کے طور پر استعمال کرنے سمیت اینٹی کرپشن کی بھی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ جن کنسلٹنسی اور کورئیر اداروں کے مالکان اور ملازمین اس غیر قانونی نیٹ ورک میں ملوث تھے ان میں سوفی کنسلٹنٹس، ایکسیلنٹ کورئیر سروس (ای سی ایس)، لیپرڈ کورئیر سروسز (ایف اینڈ ایف پلازہ آبپارہ)، آر اے اے کے (RAAK) کنسلٹنسی، نون کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ، جی ایم کنسلٹنٹس اور فیئر لائن سروس شامل ہیں۔تحقیقاتی ادارے کا کہنا ہے کہ نجی اداروں سے تعلق رکھنے والے 16 ملزمان کے علاوہ وزارتِ خارجہ کے 6 افسران بشمول اے ڈی/اے پی ایس اٹیسٹیشن، انچارج اپوسٹل بھی اس نیٹ ورک میں شامل پائے گئے۔ایف آئی اے کا الزام ہے کہ ملزمان اپوسٹل اور تصدیقی خدمات کو تیز کروانے کے نام پر درخواست گزاروں سے بھاری رقوم وصول کرتے تھے اور اس میں سے وزارتِ خارجہ کے افسران کو رشوت دی جاتی تھی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جعلی اپوسٹل سٹیکرز پورے پاکستان میں مختلف مقامات پر گردش میں تھے جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
