

شاہی کرسیوں سے زبردست ‘بیدخلی’ ایل ڈی اے میں سالہا سال سے جمی ‘پکی مٹی’ بالآخر اکھڑ گئی!
لاہور (عامراقبال بٹ سے) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) میں آخر کار وہ “معجزہ” رونما ہو ہی گیا جس کا انتظار شاہراہِ قائد اعظم پر سالوں سے کیا جا رہا تھا۔ ادارے کی مختلف کرسیوں پر شریش کی طرح چپکے 51 “سیٹ ہولڈرز” کو بالآخر اپنی پسندیدہ نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑ گئے۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کے کڑے تیور دیکھ کر ڈی جی ایل ڈی اے نے حکمِ نامہ جاری کرتے ہوئے تین سال سے زائد عرصے سے ایک ہی جگہ خیمے گاڑ کر بیٹھے افسران کی دنیا بدل دی۔ذرائع کے مطابق یہ وہ بخت آور افسران تھے جو دفتر کی کرسی کو اپنی آبائی ملکیت سمجھ کر اس پر دائم قائم رہنے کے فن سے کامل واقفیت رکھتے تھے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل سابق ڈی جی محمد علی رندھاوا نے ڈیڑھ سو کے قریب کلرکوں کے قبلے درست کیے تھے، لیکن اس بار باری تھی بڑے برجوں کی۔
ٹاؤن پلاننگ کی ‘کمائی والی باؤنڈری’ پر بڑا جھاڑو
خبر گرم ہے کہ اس تبادلے کی سب سے شدید زد “ٹاؤن پلاننگ” کے ان اسسٹنٹ ڈائریکٹرز پر پڑی ہے جو سالہا سال سے نقشے پاس کرنے اور ‘موقع ملاحظہ’ کرنے کی برکتوں سے مالا مال ہو رہے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ، افسرانِ بالا کے کانوں میں ہر وقت ‘صحیح وقت پر صحیح مشورہ‘ دینے والے بااثر پرائیویٹ سیکرٹریز اور سائے کی طرح ساتھ رہنے والے ‘پاورفل’ سٹاف آفیسرز کو بھی بالاخر ان کی من پسند پناہ گاہوں سے نکال کر نئی جگہوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ایل ڈی اے کے اندرونی حلقوں میں اس ناگہانی نوٹیفکیشن کے بعد سناٹا چھایا ہوا ہے اور کئی “بااثر” شخصیات اب یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ نئی کرسیوں پر پرانے داؤ پیچ کیسے چلائے جائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ نیا نوزائیدہ انتظامی تحرک واقعی عوام کے کاموں میں آسانی لاتا ہے یا پھر شاہی مہریں بدلنے کے بعد کھیل پرانا ہی جاری رہے گا!


