بے حس حکمران، بیمار نظام اور سسکتی انسانیت

تحریر:خرم پاشا

پمز ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے بعد ایک بار پھر شور اُٹھا ہے، بیانات جاری ہوں گے، تحقیقات کے اعلانات ہوں گے‘ ذمہ داروں کا تعین کرنے کی یقین دہانیاں کرائی جائیں گی، شاید کچھ افسران کو معطل بھی کر دیا جائے، چند دن میڈیا پر بحث بھی ہوگی اور پھر ہمیشہ کی طرح معاملہ فائلوں کے نیچے دب جائے گا،لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چند دن کا شور ان معصوم جانوں کو واپس لا سکتا ہے؟اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے حکمرانوں کو کب احساس ہوگا کہ ہسپتالوں میں آنے والا ہر مریض صرف ایک”نمبر“ نہیں بلکہ ایک انسان ہے، جس کی زندگی اس کے خاندان کے لیے پوری دنیا کی حیثیت رکھتی ہے؟میں آج یہ بات صرف ایک صحافی کی حیثیت سے نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسے شخص کی حیثیت سے کر رہا ہوں جس نے تقریباً دو دہائیوں تک ہسپتالوں کے اندر اپنے والدین کے علاج کے لیے ایک طویل جنگ لڑی ہے،میرے والد محترم سلیم پاشا خود ایک سینئر صحافی تھے، جون2008 میں ہائی بلڈ پریشر کے باعث انہیں شیخ زید ہسپتال لاہور لے جایا گیا۔ وہاں تقریباً دو گھنٹے ان کا علاج صرف بلڈ پریشر کنٹرول کرنے تک محدود رہا،بار بار ڈاکٹر کو بلانا پڑا، عملے کو متوجہ کرنا پڑا، منتیں کرنا پڑیں لیکن کسی نے یہ سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ اصل مسئلہ کیا ہے۔
آخرکار میں انہیں ایک نجی ہسپتال لے جانے پر مجبور ہوا،جب ہم انہیں وہیل چیئر پر بٹھا کر باہر لائے اور گاڑی میں منتقل کرنے لگے تو معلوم ہوا کہ ان کے بائیں بازو اور ٹانگ میں جان نہیں تھی،نجی ہسپتال پہنچنے پر معلوم ہوا کہ میرے والد کو فالج ہو چکا تھا،یہ واقعہ میرے لیے صرف ایک ذاتی دکھ نہیں بلکہ ہمارے طبی نظام پر ایک بڑا سوال ہے،ایک مریض ہسپتال پہنچا، دو گھنٹے وہاں رہا، علاج ہوا، مگر اس کی اصل بیماری کی تشخیص نہ ہو سکی،2016 میں میرے والد کی وفات کے کچھ عرصے بعد میری والدہ بھی بیمار ہو گئیں،پھر ایک طویل عرصے تک نجی ہسپتالوں کے چکر لگتے رہے،یوں 2008 سے نومبر2025 تک ہسپتال میرے لیے محض ایک عمارت یا ادارہ نہیں رہے بلکہ ایک ایسی دنیا بن گئے جہاں میں نے مریضوں کی بے بسی، لواحقین کی پریشانی، ڈاکٹروں کا دبا¶، انتظامی نااہلی، اخراجات کا بوجھ اور نظام کی کمزوریاں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اور آج جب پمز کے واقعے کے بعد ایک بار پھر صحت کے نظام پر بات ہو رہی ہے تو میرا سوال سیدھا ہے:آخر ہمارے حکمران کب جاگیں گے؟کب تک عوام کو صحت کے نام پر صرف نعرے دیئے جاتے رہیں گے؟کب تک اربوں روپے کے بجٹ، نئی عمارتیں، نئی مشینیں اور بڑے بڑے منصوبے دکھا کر یہ سمجھا جاتا رہے گا کہ صحت کا نظام ٹھیک ہو گیا؟اگر نظام ٹھیک ہے تو پھر غریب مریض ہسپتال کے فرش پر کیوں پڑا ہے؟ایک بیڈ پر دو مریض کیوں ہیں؟ڈاکٹر کو بلانے کے لیے سفارش کیوں چاہیے؟مریض کو دوا کے لیے باہر کیوں بھیجا جاتا ہے؟مشینیں خریدنے کے بعد بند کیوں پڑی رہتی ہیں؟اور سب سے بڑھ کر غریب آدمی کو انسان سمجھ کر علاج کیوں نہیں دیا جاتا؟یہ سوال کسی ایک حکومت سے نہیں ہے،میں کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک حکومت کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہراتا، میری آنکھوں کے سامنے کئی حکومتیں آئیں، کئی وزرائے صحت آئے، کئی پالیسیاں بنیں، کئی دعوے ہوئے مگر عام آدمی آج بھی اسی سوال کے ساتھ ہسپتال کے دروازے پر کھڑا ہے۔
حکمرانوں کے لیے شاید صحت کا شعبہ ایک بجٹ، ایک منصوبہ یا ایک سیاسی کارنامہ ہو، لیکن غریب کے لیے یہ زندگی اور موت کا سوال ہے،اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے ہاں انسانی جان کی قیمت شاید اس وقت محسوس ہوتی ہے جب کوئی بڑا حادثہ ہو جائے اور میڈیا کیمرے لے کر پہنچ جائے،پھر چند دن آنکھوں میں آنسو نظر آتے ہیں، بیانات آتے ہیں، نوٹس لیے جاتے ہیں، تحقیقات کا اعلان ہوتا ہے،پھر سب خاموش،یہ کیسی بے حسی ہے؟یہ کیسا نظام ہے؟یہ کیسی حکومتیں ہیں جو عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آتی ہیں لیکن اقتدار میں پہنچ کر اسی عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام ہو جاتی ہیں؟سرکاری ہسپتالوں کا مسئلہ صرف وسائل کا نہیں، نیت اور نظام کا بھی ہے،ہر سال اربوں روپے صحت کے نام پر خرچ ہوتے ہیں، نئی عمارتیں بنتی ہیں، مہنگی مشینیں خریدی جاتی ہیں، منصوبوں کے افتتاح ہوتے ہیں مگر کوئی یہ پوچھنے والا بھی ہونا چاہیے کہ جو پیسہ مختص ہوا وہ کہاں گیا؟جو مشین خریدی گئی وہ چل بھی رہی ہے یا نہیں؟جو دوا خریدی گئی وہ مریض تک پہنچی یا نہیں؟جو ڈاکٹر تعینات کیا گیا وہ ہسپتال میں موجود بھی ہے یا نہیں؟اور جو غریب مریض ہسپتال پہنچا، اسے عزت، دوا اور بروقت علاج ملا یا نہیں؟یہ احتساب کون کرے گا؟کرپشن کا جن اگر قابو میں نہ آیا تو صحت کا نظام کبھی درست نہیں ہوگا،لیکن یہاں ایک بات میں ضرور کہنا چاہوں گا کہ تمام ڈاکٹرز کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی ناانصافی ہے، ہمارے ہاں بے شمار قابل، محنتی اور درد دل رکھنے والے ڈاکٹر، نرسیں اور طبی کارکن موجود ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ایک ڈاکٹر پر اتنا بوجھ ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ چاہنے کے باوجود ہر مریض کو مطلوبہ وقت نہیں دے پاتا،یہ بھی حکمرانوں کی ذمہ داری ہے،اگر مریض ہزاروں ہوں اور ڈاکٹر چند، اگر بیڈ کم ہوں اور مریض زیادہ، اگر نرسنگ سٹاف ناکافی ہو، تو پھر صرف ڈاکٹر کو برا بھلا کہنے سے نظام ٹھیک نہیں ہوگا۔نظام ٹھیک کرنا ہوگا،اور اگر سرکاری ہسپتال غریب کو سہولت نہیں دے سکتے تو پھر حکومتیں بتائیں کہ وہ صحت کے شعبے میں اربوں روپے آخر کس کے لیے خرچ کر رہی ہیں؟دوسری طرف نجی ہسپتالوں کا معاملہ بھی کسی المیے سے کم نہیں،غریب تو غریب، متوسط طبقہ بھی علاج کرواتے کرواتے اپنی جمع پونجی ختم کر دیتا ہے، بعض نجی ہسپتالوں کے اخراجات عام آدمی کے لیے ناقابل تصور ہیں،ہسپتال کے اندر ادویات اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی سوالات اُٹھتے رہے ہیں، مریض کے لواحقین کو بعض اوقات یہ محسوس ہوتا ہے کہ جو دوا باہر سے ایک قیمت پر ملتی ہے، وہ ہسپتال کے اندر کہیں زیادہ قیمت پر دستیاب ہے،اگر ایسا ہے تو متعلقہ ادارے کہاں ہیں؟نگرانی کرنے والے کہاں ہیں؟قانون کہاں ہے؟اور اگر قانون موجود ہے تو اس پر عمل کون کروا رہا ہے؟یہ شعبہ بھی اگر مکمل طور پر منافع کی دوڑ میں تبدیل ہو جائے تو پھر مریض کہاں جائے؟سرکاری ہسپتال میں بے بسی اور نجی ہسپتال میں استطاعت کی آزمائش،عام آدمی آخر جائے تو جائے کہاں؟یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب حکمرانوں کو دینا ہوگا۔ہمیں مزید نعرے نہیں چاہئیں،ہمیں مزید افتتاحی تختیاں نہیں چاہئیں،ہمیں مزید سیاسی تقریریں نہیں چاہئیں،ہمیں عمل چاہیے،ہسپتالوں میں ڈاکٹر چاہئیں،نرسیں چاہئیں،ادویات چاہئیں،فعال مشینری چاہیے،بستر چاہئیں،ایمرجنسی میں فوری علاج چاہیے،اور سب سے بڑھ کر مریض کے ساتھ انسان جیسا سلوک چاہیے،پمز کے نومولود بچے اس نظام کے بارے میں ہم سے سوال کر رہے ہیں،وہ بچے تو اپنی فریاد زبان سے نہیں کر سکے، مگر ان کی موت ایک بہت بڑا سوال چھوڑ گئی ہے،اگر ایک نومولود بھی محفوظ نہیں تو پھر ہمارے صحت کے نظام کی کامیابی کے دعوے کس بنیاد پر ہیں؟خدارا، اب عوام کو مزید بے وقوف نہ بنائیں،یہ دور صرف دعوﺅں کا نہیں رہا،عوام سب دیکھ رہے ہیں،عوام سوال کر رہے ہیںاور حکمرانوں کو اب جواب دینا ہوگاکیونکہ ہسپتال کسی حکومت کی تشہیر کے مراکز نہیں ہوتے،ہسپتال زندگی بچانے کے مراکز ہوتے ہیںاور جس نظام میں ایک غریب انسان اپنی جان بچانے کے لیے بھی سفارش، پیسہ اور تعلقات تلاش کرنے پر مجبور ہو جائے وہاں مسئلہ صرف ہسپتال کا نہیں رہتاپورا نظام بیمار ہو چکا ہوتا ہے۔