
لاہور(رپورٹ/فراز عدیم) ایم ایس گنگارام نے ہسپتال میں طبی قوانین کا جنازہ نکال دیا وارڈ بوائے قیصر پروفیسر ڈاکٹر ایوب کی سرپرستی میں انڈوسکوپی کا بے تاج بادشاہ بن گیا گنگارام ہسپتال میں مریضوں کی زندگیوں سے سنگین کھلواڑ ہونے لگا ناتجربہ کار وارڈ بوائے پروفیسر ڈاکٹر ایوب کے ساتھ انڈوسکوپی پروسیجرز کروانے لگا پروفیسر ایوب واڈ بوائے کے ساتھ اپنے گھریلو ملازم محبوب بھی منگل والے دن انڈوسکوپی پروسیجرز میں ساتھ ہوتا ہے ڈاکٹر ایوب نے عملے کو اپنے چہیتے وارڈ بوائے کو ٹیکنیشن بولنے کے احکامات کردئیے کمرہ نمبر 23 میں وارڈ بوائے کو سینئر ہیڈ نرسوں کا باس بنا دیا گیا اس فیصلے پر عملہ خوفزدہ رہنا شروع ہوگیا ایم ایس ڈاکٹر عارف افتخار کی مجرمانہ خاموشی نے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیں جعلی ٹیکنیشن کا روپ دھارنے والے وارڈ بوائے کی من مانیاں عروج پر پہنچ گئیں سرگنگارام ہسپتال میں پی ایم اینڈ ڈی سی رولز کی دھجیاں اڑا دی گئی مریضوں کے لواحقین نے وزیر صحت اور سیکرٹری ہیلتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر اس واقعے کا سخت نوٹس لیا جائے پروفیسر ڈاکٹر ایوب کو ان کے عہدے سے ہٹا کر ان کے خلاف انکوائری بٹھائی جائے وارڈ بوائے قیصر اور اس کے ساتھی گھریلو ملازم محبوب کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے اور ایم ایس ڈاکٹر عارف افتخار کو اس مجرمانہ غفلت اور خاموشی پر عہدے سے برطرف کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اگر فوری طور پر ان عناصر کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو گنگارام ہسپتال میں کسی بھی بڑے جانی نقصان کی تمام تر ذمہ داری محکمہ صحت اور ہسپتال انتظامیہ پر عائد ہوگی