ای بیز کا نفاذ یا ایم سی ایل کی آمدن پر کاری ضرب؟غلط باؤنڈری نے علامہ اقبال زون کے نقشے ایل ڈی اے کے حوالے کر دیے، چھ ماہ میں کروڑوں کا نقصان، شہری خوار، تعمیراتی سرگرمیاں مفلوج

لاہور:رپورٹ (عامر اقبال بٹ) ڈیجیٹل ون ونڈو پلیٹ فارم ای بیز (e-Biz) کے نفاذ اور علامہ اقبال زون کی مبینہ طور پر غلط باؤنڈری مارکنگ نے میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور (MCL) کے لیے ایک سنگین انتظامی اور مالی بحران پیدا کر دیا ہے۔ نقشہ فیس کی مد میں سب سے زیادہ آمدن دینے والے زون کا بلڈنگ کنٹرولڈ ایریا عملی طور پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے نظام میں چلا گیا، جبکہ چھ ماہ گزرنے کے باوجود بنیادی نوعیت کی یہ مبینہ غلطی درست نہیں کی جا سکی۔ذرائع کے مطابق ای بیز سسٹم میں علامہ اقبال زون کی باؤنڈری غلط درج ہونے کے باعث اس علاقے میں آنے والے بلڈنگ کنٹرولڈ ایریا کے نقشے ایم سی ایل کے بجائے ایل ڈی اے کے سسٹم میں منتقل ہو رہے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایل ڈی اے بھی ان نقشوں کو منظور نہیں کر رہا، جبکہ ایم سی ایل کی جانب سے بھی مارچ سے اب تک علامہ اقبال زون کا کوئی نقشہ منظور نہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ نتیجتاً ایک طرف شہری اپنے گھروں اور کمرشل عمارتوں کے نقشے منظور کروانے کے لیے مہینوں سے دفاتر کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں تو دوسری جانب ایم سی ایل کو نقشہ فیس کی مد میں کروڑوں روپے کے مبینہ نقصان کا سامنا ہے۔ یوں ایک غلط ڈیجیٹل باؤنڈری نے نہ صرف شہریوں کو دو بڑے اداروں کے درمیان پھنسا دیا بلکہ بلدیاتی ادارے کی آمدن کو بھی شدید متاثر کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم سی ایل اور ایل ڈی اے کے درمیان مؤثر کوآرڈینیشن، واضح ڈائریکشن اور ذمہ داری کے تعین کا فقدان اس بحران کو طول دے رہا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ای بیز سسٹم کے نفاذ کے دوران باؤنڈریز غلط درج کی گئیں تو اس سنگین غلطی کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور اسے درست کرنے کے لیے گزشتہ چھ ماہ کے دوران کیا عملی اقدامات کیے گئے؟صورتحال مزید تشویشناک اس لیے ہے کہ معاملہ مبینہ طور پر ایم سی ایل کی ضلعی و ڈویژنل انتظامیہ اور محکمہ لوکل گورنمنٹ کے علم میں بھی ہے، لیکن اس کے باوجود تاحال مسئلے کا مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔ سوال یہ ہے کہ ایک غلط باؤنڈری درست کرنے میں چھ ماہ کیوں لگ گئے؟ کیا کروڑوں روپے کے ممکنہ ریونیو نقصان کا کسی نے حساب لیا؟ اور سب سے بڑھ کر، اپنا نقشہ منظور کروانے کے لیے مہینوں سے خوار ہونے والے شہری آخر کس دروازے پر جائیں؟ علامہ اقبال زون میں نقشوں کی منظوری کا عمل تعطل کا شکار ہونے سے تعمیراتی سرگرمیاں بھی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اگر یہ صورتحال مزید برقرار رہی تو اس کے مالی اثرات صرف ایم سی ایل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ شہریوں، تعمیراتی شعبے اور مجموعی طور پر شہر کی معاشی سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اعلیٰ حکام محض نوٹس لینے تک محدود رہنے کے بجائے غلط باؤنڈری فوری درست کرائیں، ذمہ داروں کا تعین کریں، ایم سی ایل کے ریونیو نقصان کا مکمل تخمینہ لگائیں اور شہریوں کے زیرِ التوا نقشوں کی منظوری کے لیے واضح اور فوری لائحہ عمل جاری کریں۔ ورنہ ڈیجیٹل اصلاحات کے نام پر پیدا ہونے والا یہ انتظامی بحران عوام اور قومی خزانے دونوں کے لیے مزید نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
