
لاہور: میٹروپولیٹن نیوز
سیکرٹری بلدیات زید بن مقصود کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ، شفافیت اور معیار کو بہتر بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری بلدیات نے ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کے لیے جامع مانیٹرنگ میکنزم وضع کرنے کی ہدایت کی، جبکہ اسکیموں کی مانیٹرنگ کے لیے انجینئرنگ نظام میں اصلاحات کی تجویز پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ڈویلپمنٹ مہرین عباسی نے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے لیے کل 115 ارب 55 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جس کے تحت مجموعی طور پر 428 اسکیمیں شامل کی گئی ہیں۔ ان میں 406 جاری (Ongoing) جبکہ 22 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔ مزید برآں، لاہور کے تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے 55 ارب روپے سے زائد کی لاگت کے 20 منصوبے جاری ہیں، جبکہ مری ڈویلپمنٹ پروگرام فیز ٹو کی 88 اسکیموں کے لیے 9 ارب روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری بلدیات زید بن مقصود نے ہدایت کی کہ منصوبوں کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی سپرویژن کے نظام کو مزید فعال بنایا جائے۔ انہوں نے ترقیاتی کاموں کے معیار کی جانچ کے لیے فیلڈ انسپیکشن کے عمل کو تیز کرنے کی تاکید کی اور واضح کیا کہ تمام جاری اور نئی اسکیموں کو ہر صورت مقررہ وقت اور طے شدہ بجٹ کے اندر مکمل کیا جائے۔

