پولیس کی اندھی تعمیل بااثر خاتون کے اشارے پر پڑوسیوں کا تشدد، 6 جھوٹی دفعات کے تحت مقدمہ درج اختیارات کا ناجائز استعمال پڑوسیوں پر تشدد اور بااثر خاتون کی مرضی سے 6 سخت قانونی دفعات کا اندراج
کراچی: “رشتےدار بنے بدمعاش” بدمعاشی کرنے والوں کی پہنچ سندھ پولیس کے افسران تک؟ بااثر مبینہ سالی نے پڑوسیوں کو پولیس سے چھترول بھی کروائی اور FIR درج کروا کر من پسند 6 دفعات بھی شامل کروائی! وقوع رات 1 بجے ہوتا ہیں FIR میں وقت 12 بجے لکھا جاتا انداج مقدمہ 1:40 پر ہو جاتا ہے، ماشاءاللہ بہت Fast سروس ہے سندھ پولیس کی، کاش عام انسان کے لیے بھی اتنا تیز ترین انصاف دستیاب ہوں، عام درخواست گزار کی درخواست 6 ماہ تک پڑی رہتی ہے، کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جاتا، اور پولیس افسران اپنے ہوں تو افسران کی مبینہ ملی بھگت سے منٹوں میں انصاف ملتا ہے 6 دفعات بھی ٹھوک دی جاتی ہیں، یہ ہیں سندھ کا نظام کوئی انصاف نام کی چیز نہیں؟ پارکنگ اور لفٹ استعمال کرنے کا مسلہ بنا کر کسی کو اس حد تک ٹارچر کیا جا سکتا ہیں؟؟ دیکھتے ہیں اس معاملے پر سندھ کا کونسا وزیر یا کونسا اعلٰی پولیس افسر متاثرہ فیملی کو انصاف فراہم کرتا ہے؟
