مقامِ شرم!
پمز ہسپتال اسلام آباد کا سانحہ صرف ایک حادثہ نہیں، متاثرہ والدین کے لیے قیامتِ صغریٰ ہے۔ ذرا اس لمحے کا تصور کریں جب نرسری کے 14 معصوم نوزائیدہ بچے دھویں اور آگ میں گھِرے تڑپ رہے ہوں گے اور ہسپتال کا عملہ اپنی جان بچا کر باہر نکل چکا ہو گا۔کیا اتنے بڑے سانحے کا مداوا صرف ایک سیکرٹری ہیلتھ کی معطلی ہے؟ وفاقی وزیرِ صحت اور کروڑوں کا سالانہ بجٹ ہضم کرنے والا مینٹیننس ڈیپارٹمنٹ کہاں ہے؟ یہ صرف پمز کا معاملہ نہیں، یہی زبوں حالی ڈی ایچ کیو ساہیوال کی بھی ہے؛ جہاں 30 بچوں کی نرسری میں 184 نوزائیدہوں کو رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹرز دو دہائیاں دے رہے ہیں کہ مزید بچے نہ بھیجے جائیں، لیکن سسٹم ٹس سے مس نہیں ہو رہا۔ کل کو اگر وہاں کوئی سانحہ ہوا تو ذمہ دار کون ہو گا؟ پنجاب کے ہسپتالوں کی اس ابتر صورتحال کے ذمہ دار بیوروکریٹس ہیں، جو صرف پرسنل اسکور سیٹنگ، ڈاکٹرز کی معطلیوں اور خریداریاں (Purchases) میں کمیشن بنانے تک محدود ہیں۔ حادثے کے بعد صرف ایم ایس، پرنسپل یا کچھ نرسوں کو قربانی کا بکرا بنا کر انکوائری کمیٹیوں کے پیچھے چھپ جانا مسئلے کا حل نہیں۔
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کو بیوروکریسی کے سحر سے نکل کر خود سخت فیصلے کرنے ہوں گے، ورنہ ایسے دلخراش سانحات یوں ہی رونما ہوتے رہیں گے۔

viralreelsシ