
لاہور(عامر اقبال بٹ)لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے میٹروپولیٹن کارپوریشن لاہور کے علامہ اقبال زون کے نقشہ جات کی منظوری اور پراسیسنگ شروع کر دی ہے، جس کے باعث ایم سی ایل کو نقشہ فیس کی مد میں حاصل ہونے والی بڑی آمدن خطرے میں پڑ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق ایم سی ایل کی مجموعی نقشہ فیس ریکوری میں علامہ اقبال زون کا حصہ چالیس فیصد سے زائد رہا ہے، تاہم ای بیز سسٹم میں ریکارڈ کی مبینہ غلط انٹری کے باعث زون کا لینڈ کنٹرولڈ ایریا ایم سی ایل کے بجائے ایل ڈی اے کے کھاتے میں چلا گیا، اور نقشے ایل ڈی اے کو ٹرانسفر ہونے لگے۔ دوسری جانب بلڈنگ کنٹرول مکمل طور پر ایل ڈی اے کو منتقل کرنے کے معاملے پر بھی ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق ایل ڈی اے نے ایم سی ایل کے لیے پچیس فیصد شیئر، آڈٹ اور دیگر شرائط کے ساتھ بلڈنگ کنٹرول لینے سے انکار کر دیا ہے۔ صورتحال نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کی انتظامی صلاحیت اور ریونیو کے تحفظ پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ آخر اپنے ہی زون کا نقشہ فیس اور بلڈنگ کنٹرول محفوظ رکھنے میں ادارہ کہاں کھڑا ہے؟ ڈپٹی کمشنر لاہور کی جانب سے سیکرٹری بلدیات پنجاب کے توسط سے ایم سی ایل کا بلڈنگ کنٹرول ایل ڈی اے کو منتقل کرنے اور باقاعدہ معاہدے کی سفارش بھی کی جا چکی ہے، مگر اب ایل ڈی اے کی عدم دلچسپی کے باعث معاملہ مزید الجھتا دکھائی دے رہا ہے۔سوال یہ ہے کہ علامہ اقبال زون کے نقشوں اور کروڑوں کے ممکنہ ریونیو کا ذمہ دار کون ہوگا، اور ایم سی ایل کی مبینہ انتظامی غفلت کا جواب کون دے گا؟

