لاہور (عامر اقبال بٹ سے) لاہور میں غیر قانونی تعمیرات کا جن بے قابو روزانہ مسماری اور سیلنگ کے باوجود خلاف ورزیاں جاری
سیکرٹری ہاؤسنگ اور ڈی جی ایل ڈی اے سے سہولت کاروں اور مبینہ محکمانہ سرپرستی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، ذمہ دار افسران کا تعین کیے بغیر مؤثر روک تھام ممکن نہیں شہری حلقے
لاہور (عامر اقبال بٹ سے) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کی کارروائیاں تو جاری ہیں، تاہم روزانہ کی بنیاد پر عمارتوں کو مسمار اور سربمہر کیے جانے کے باوجود غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ مالکان کے خلاف مقدمات کے اندراج سمیت سخت قانونی اقدامات کے باوجود خلاف ورزیوں کا تسلسل ایل ڈی اے کے مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ نظام کی مؤثریت پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے۔
شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کو محض مسماری، سیلنگ اور مقدمات کے اندراج تک محدود رکھنے کے بجائے اس امر کا تعین بھی ضروری ہے کہ آخر ایسی تعمیرات شروع ہونے اور تکمیل کے مراحل تک پہنچنے سے پہلے متعلقہ محکمے انہیں روکنے میں کیوں ناکام رہتے ہیں۔ اگر ایک ہی علاقے یا زون میں بار بار خلاف ورزیاں سامنے آ رہی ہیں تو متعلقہ فیلڈ عملے، نگرانی کے ذمہ دار افسران اور انفورسمنٹ نظام کی کارکردگی کا شفاف جائزہ ناگزیر ہے
سیکرٹری ہاؤسنگ پنجاب اور ڈی جی ایل ڈی اے کو چاہیے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری آپریشنز کے ساتھ ساتھ ان ممکنہ سہولت کاروں اور محکمانہ اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات کرائیں جن کی مبینہ غفلت، کوتاہی یا ممکنہ ملی بھگت کے باعث خلاف ورزیوں کو بروقت روکا نہیں جا سکا۔ تاہم کسی افسر یا اہلکار کے خلاف کارروائی سے قبل شواہد کی بنیاد پر ذمہ داری کا تعین اور متعلقہ فریق کو صفائی کا منصفانہ موقع دینا بھی ضروری ہے۔
لاہور جیسے بڑے شہر میں تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی، نقشوں کی منظوری، موقع پر معائنہ اور قانونی کارروائی کے لیے ایک باقاعدہ انتظامی نظام موجود ہے ایسے میں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات مسلسل جاری رہیں تو متعلقہ زونوں میں تعینات ذمہ دار افسران کی نگرانی اور جواب دہی کا نظام کس حد تک مؤثر ہے؟ کیا خلاف ورزیوں کی بروقت نشاندہی کی جا رہی ہے، اور اگر نہیں تو اس کی وجوہات کیا ہیں ؟
سیکرٹری ہاؤسنگ اور ڈی جی ایل ڈی اے سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات والے زونوں کی کارکردگی کا خصوصی آڈٹ کرایا جائے، متعلقہ ریکارڈ اور شکایات کی جانچ پڑتال کی جائے، ذمہ دار اہلکاروں اور افسران کا تعین کیا جائے اور جہاں غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا ملی بھگت کے شواہد ملیں وہاں بلاامتیاز قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ شہری مفاد کا تقاضا ہے کہ غیر قانونی عمارت تعمیر ہونے کے بعد اسے گرانے کے بجائے خلاف ورزی کو ابتدا ہی میں روکا جائے۔ محض روزانہ کی مسماری اور سیلنگ کی کارروائیاں اس وقت تک دیرپا نتائج نہیں دے سکتیں جب تک خلاف ورزیوں کی بنیادی وجوہات، نگرانی کی خامیوں اور ممکنہ سہولت کاری کا مؤثر سدباب نہ کیا جائے۔
اب اصل امتحان صرف غیر قانونی عمارتیں گرانا نہیں، بلکہ اس نظام کو جواب دہ بنانا ہے جس کے ہوتے ہوئے ایسی تعمیرات بار بار جنم لے رہی ہیں۔



