موضوع: پی آر او ایل ڈی اے کا “مخصوص” سکوت اور چائے کی پیالی میں ایل ڈی اے کے انقلاب؟
ہم عرصے سے دیکھ رہے ہیں کہ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کا شعبہ تعلقات عامہ (PRO) انتہائی مستعدی کے ساتھ دن رات یہ پریس ریلیز جاری کرنے میں مصروف رہتا ہے کہ: “آج فلاں علاقے میں غیر قانونی تعمیرات گرا دیں، فلاں پلازہ سیل کر دیا، اور تجاوزات کے خلاف اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی
یہ الگ بات ہے کہ مبینہ طور پر جس پلازے کو صبح سیل کیا جاتا ہے شام کو وہاں چائے کے کپ کی خوشبو کے ساتھ تعمیراتی کام دوبارہ جاری و سار ہوتا ہے۔ لیکن اصل حیرت اس بات پر ہے کہ جب بھی کوئی صحافی یا اخبار ایل ڈی اے افسران کی اپنی مبینہ چھتر چھایا میں قائم ہونے والی غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی کرتا ہے تو محترم پی آر او صاحبان کے قلم کی روشنائی اچانک سوکھ جاتی ہے اور ان پر گہرا سکتہ طاری ہو جاتا ہے۔ کیا ‘خبر’ صرف غریب کے گرائے جانے والے تھڑے کا نام ہے، افسران کی سرپرستی کا نہیں؟
بات صرف یہی ختم نہیں ہوتی اندر کی خبریں بتاتی ہیں کہ موصوف شعبے میں صحافیوں کی “آؤ بھگت” کے لیے جو چائے پانی بسکٹ اور خاطر تواضع کا بندوبست ہوتا ہے اس کے بل دیکھ کر تو شاید ترقیاتی منصوبوں کا بجٹ بھی شرما جائے؟
ایک معمولی چائے کے کپ سے شروع ہونے والی یہ “تواضع” سرکاری خزانے پر سالانہ کتنا بوجھ ڈالتی ہے؟
کس کس صحافی کے نام پر اور کن ترجیحات کے تحت یہ سالانہ لاکھوں روپے کے بل پاس کروائے جاتے ہیں؟ کیا اس بابت کوئی تفصیل یا سالانہ رپورٹ عوام اور اعلیٰ حکام کے سامنے لائی جائے گی، یا یہ بھی “قومی راز” کے زمرے میں آتا ہے؟
ایل ڈی اے کی کارکردگی پر سوال اٹھانے والے تو بہت ہیں مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا اعلیٰ حکام اس “چائے پانی کے شفاف بجٹ” اور پی آر او کی اس مصلحت آمیز خاموشی کی تحقیقات کروائیں گے؟
…کیونکہ خبر ابھی باقی ہے
صحافتی برادری
